عربی زبان ایک وسیع سمندر کی مانند ہے۔ اس میں محض الفاظ ہی نہیں بلکہ ہر لفظ کے ساتھ گہرے جذبات وابستہ ہوتے ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ کسی خاص شے یا کیفیت کے لیے ایک سے زائد الفاظ موجود ہیں۔ قرآن نے عربی کو اپنی زبان کے طور پر اسی لیے منتخب کیا کیونکہ اس میں انسانی معاملات اور کیفیات کے اظہار کی بے پناہ وسعت موجود ہے۔ آج ہم دیکھیں گے کہ گناہ کے مفہوم کو ادا کرنے کے لیے کتنے مختلف الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، کیونکہ انسانی رویوں میں پائی جانے والی لغزشوں یا کوتاہیوں کا احاطہ کسی ایک لفظ میں نہیں کیا جا سکتا۔