سورۃ الہمزہ مال کی مذمت نہیں کرتی۔ انسان کماتا، بچاتا اور سرمایہ کاری کرتا ہے کیونکہ مال زندگی کو حقیقی، مگر محدود، تحفظ دیتا ہے۔ خطرہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں مال انسان کی اپنی قدر کا پیمانہ بننے لگے؛ پھر وہ اپنے آپ کو، اور رفتہ رفتہ دوسروں کو بھی، مال اور حیثیت سے ناپنے لگتا ہے۔ تحفظ سے اختیار کا احساس اور اختیار سے دوام کا فریب پیدا ہوتا ہے: ﴿يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ﴾۔ پھر قرآن کا فیصلہ کن جواب آتا ہے: ﴿كَلَّا﴾ — ہرگز نہیں! حُطَمَہ انسان کے فؤاد، اس کے باطن کے مرکز، تک جا پہنچتی ہے۔ جس مال سے اس نے اپنے گرد تحفظ بنایا تھا، وہ وہاں اسے نہیں بچا سکتا۔ مال زندگی کو سہارا دے سکتا ہے، دوام نہیں؛ اور مال چیزوں کی قیمت بتا سکتا ہے، انسان کی قدر نہیں۔

